Pages

Tuesday, January 1, 2019

سرجیکل سٹرائیک تو دور کی بات ۔۔! ہم بھارت سے آنے والوں کا کیا حشر کرتے ہیں؟ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے دشمن کے ہوش اُڑادیئے

راولپنڈی (آئی این پی ) پاک فوج نے لائن آف کنٹرول کے باغ سیکٹر میں جاسوس بھارتی کواڈ کوپٹر مار گرایا جبکہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاہے کہ سرجیکل اسٹرائیک تو دور کی بات ہے ہم ایک کواڈ کاپٹر بھی نہیں آنے دیتے ، کسی کواڈ کاپٹر کو بھی اپنی سرحدیں عبور نہیں کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔منگل کو پاک فوج کے شعبہ تعلقا ت عامہ( آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج نے لائن آف کنٹرول سے متصل باغ سیکٹر میں جاسوس بھارتی کواڈ کوپٹر مار گرایا۔سوشل میڈیا پر کیے گئے

ٹویٹ میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ سرجیکل اسٹرائیک تو دور کی بات ہے ہم ایک کواڈ کاپٹر بھی نہیں آنے دیتے۔ٹویٹ پیغام میں کہا گیا کہ کسی کواڈ کاپٹر کو بھی اپنی سرحدیں عبور نہیں کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔واضح رہے کہ قبل ازیں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ہرز ہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک لڑائی سے پاکستان سدھر جائے گا یہ سوچنا بہت بڑی غلطی ہوگی، پاکستان کو سدھارنے میں ابھی اور وقت لگے گا ،سرجیکل سٹرائیکس کا فیصلہ ایک ’بڑا خطرہ‘ تھا لیکن میں سیاسی خطرے کی فکر نہیں کرتا، میں نے پوری رات آپریشن کو مانیٹر کیا اور جب تک کمانڈو واپس نہیں آئے، میں فکرمند رہا،کستان کے لیے تو انکار کرنا ضروری تھا لیکن ملک میں بھی کچھ لوگ وہی بات کر رہے تھے جو پاکستان کہہ رہا تھا اور یہ بات بہت افسوس ناک تھی، پاکستان کی طرف سے اگر سارک کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت آتی ہے ’تو یہ پل اسی وقت پار کیا جائے گا ، ہم ہر موضوع پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ منگل کوبھارتی خبر رساں ادارے کو انٹرویو میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ایک لڑائی سے پاکستان سدھر جائے گا یہ سوچنا بہت بڑی غلطی ہوگی، پاکستان کو سدھارنے میں ابھی اور وقت لگے گا۔

ایک سوال کے جواب میں نریندر مودی نے کہا کہ سرجیکل سٹرائیکس کا فیصلہ ایک ’بڑا خطرہ‘ تھا لیکن وہ سیاسی خطرے کی فکر نہیں کرتے، انھیں صرف ان جوانوں کی جان کی فکر تھی جو اس آپریشن میں حصہ لے رہے تھے۔’میں نے بالکل واضح ہدایت دی تھی کہ کامیابی ہو یا ناکامی، کمانڈوز کو سورج نکلنے سے پہلے واپس آجانا چاہیے۔نریندر مودی نے کہا کہ ’پاکستان کے لیے تو انکار کرنا ضروری تھا لیکن ملک میں بھی کچھ لوگ وہی بات کر رہے تھے جو پاکستان کہہ رہا تھا اور

یہ بات بہت افسوس ناک تھی۔‘انھوں نے کہا کہ ’میں نے پوری رات آپریشن کو مانیٹر کیا اور جب تک کمانڈو واپس نہیں آئے، میں فکرمند رہا۔نریندر مودی نے کہا کہ کمانڈوز کی حفاظت کے پیش نظر سرحد پار کارروائی کی تاریخ دو مرتبہ بدلی گئی تھی اور انھیں سرجیکل سٹرائکس سے پہلے خصوصی تربیت فراہم کی گئی تھی۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا سرجیکل سٹرائکس کے جو مقاصد تھے کیا وہ حاصل ہوئے کیونکہ سرحد پار سے اب بھی حملوں اور دراندازی کا سلسلہ جاری ہے،

تو انھوں نے کہا وہ اس بارے میں میڈیا سے بات نہیں کرنا چاہتے لیکن پھر کہا کہ ’سنہ 1965 میں بھی لڑائی ہوئی، تقسیم کے وقت بھی ہوئی، ایک لڑائی سے پاکستان سدھر جائے گا، یہ سوچنا بہت بڑی غلطی ہوگی، پاکستان کو سدھارنے میں ابھی اور وقت لگے گا۔نریندر مودی نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے اگر سارک کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت آتی ہے ’تو یہ پل اسی وقت پار کیا جائے گا ۔ ہم ہر موضوع پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں، ایسا نہیں ہے کہ یہ موضوع ہوگا اور یہ نہیں،

کیونکہ ہمارا موقف بہت مضبوط ہے لیکن بس ہمارا کہنا یہ ہے کہ بم بندوق کی آواز میں بات چیت سنائی نہیں دیتی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیرکے لیے قانون سازی کے مطالبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی قدم سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کیبعد ہی اٹھایا جاسکتا ہے۔ان کے اس بیان سے یہ مطلب اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اگر عدالت کا فیصلہ ہندو فریقوں کے حق میں نہیں جاتا تو حکومت ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کی راہ ہموار کرنے کے لیے آرڈیننس جاری کر سکتی ہے۔بی جے پی کی نظریاتی سرپرست تنظیم آر ایس ایس اور دوسری اتحادی جماعتوں کا الزام ہے کہ سپریم کورٹ تنازع کی سماعت میں تاخیر کر رہا ہے اور اب قانون بناکر مندر کی تعمیر کی راہ ہموار کرنے کا وقت آگیا ہے۔ہندو رضاکاروں نے چھ دسمبر 1992 کو ایودھیا میں واقع تاریخی بابری مسجد کو مسمار کر دیا تھا۔ وہ مانتے ہیں کہ یہ ان کے بھگوان رام کی جائے پیدائش ہے اور وہ وہاں ایک عالی شان مندر بنانا چاہتے ہیں۔لیکن حزب اختلاف کی جماعتوں اور مسلمان فریقوں کا دعویٰ ہے کہ حکومت سیاسی حکمت عملی کے طور پر پارلیمانی انتخابات سے پہلے رام مندر کا تنازع دوبارہ اٹھا رہی ہے اور اس کا مقصد اپنی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانا اور لوگوں میں منافرت پیدا کرنا ہے۔لیکن نریندر مودی نے کہا کہ رام مندر کا تنازع ’آئین کے دائرے‘ میں ہی حل کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمہ متنازع زمین کی ملکیت کے بارے میں ہے۔

The post سرجیکل سٹرائیک تو دور کی بات ۔۔! ہم بھارت سے آنے والوں کا کیا حشر کرتے ہیں؟ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے دشمن کے ہوش اُڑادیئے appeared first on JavedCh.Com.



loading...

No comments:

Post a Comment

Important For You

loading...